Urdu Ahmed Raza Khan
Surah Al-Balad ( The City ) - Aya count 20
لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿١﴾
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿٢﴾
کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو
وَوَالِدٍۢ وَمَا وَلَدَ ﴿٣﴾
اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِى كَبَدٍ ﴿٤﴾
بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌۭ ﴿٥﴾
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًۭا لُّبَدًا ﴿٦﴾
کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ ﴿٧﴾
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ ﴿٨﴾
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں
وَلِسَانًۭا وَشَفَتَيْنِ ﴿٩﴾
وَهَدَيْنَٰهُ ٱلنَّجْدَيْنِ ﴿١٠﴾
اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی
فَلَا ٱقْتَحَمَ ٱلْعَقَبَةَ ﴿١١﴾
پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْعَقَبَةُ ﴿١٢﴾
اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے
أَوْ إِطْعَٰمٌۭ فِى يَوْمٍۢ ذِى مَسْغَبَةٍۢ ﴿١٤﴾
يَتِيمًۭا ذَا مَقْرَبَةٍ ﴿١٥﴾
أَوْ مِسْكِينًۭا ذَا مَتْرَبَةٍۢ ﴿١٦﴾
ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَوَاصَوْاْ بِٱلصَّبْرِ وَتَوَاصَوْاْ بِٱلْمَرْحَمَةِ ﴿١٧﴾
پھر ہو ان سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں
أُوْلَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ ﴿١٨﴾
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا هُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ ﴿١٩﴾
اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے
عَلَيْهِمْ نَارٌۭ مُّؤْصَدَةٌۢ ﴿٢٠﴾
ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی